اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق اور شام میں سرگرم داعش میں غیر ملکیوں کی بڑھتی ہوئی شمولیت نے انٹرپول کو بحری سفر کی نگرانی کے لیے مزید اختیارات حاصل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عسکریت پسند بحری راستے سے شام پہنچ کر داعش کا حصہ بن رہے ہیں۔ انٹرپول کے حکام کے مطابق انتہاء پسندوں نے یہ راستہ ائیر پورٹس اور دیگر راستوں کی ترکی میں سخت نگرانی کے نظام کے توڑ کے طور پر اختیار کیا ہے۔ انٹرپول حکام کے مطابق اسی وجہ سے انٹرپول نے پائلٹ پروگرام '' ون چیک اٹ'' کو توسیع دینے پر غور شروع کر دیا ہے۔ انٹرپول حکام کو امید ہے کہ ایک دن آئیگا جب بحری جہازوں کے مسافروں کے ڈیٹا تک بھی ان کی رسائی ہو جائے گی اور کروز آپریٹرز، بینک اور ہوٹل سبھی ان کی نگرانی کے لیے کھول دیئے جائیں گے۔ شام کے ساتھ ملے ہوئے ترکی کی طویل سرحد جس میں مبینہ طور پر ایسے کئی چور راستے موجود ہیں انتہاء پسندوں کے شام میں داعش تک پہنچنے کا بڑا ذریعہ بتائے جاتے رہے ہیں۔ داعش اب تک شام اور عراق کے ایک بڑے حصے پر قابض ہو چکی ہے۔
مناکو میں انٹرپول کی جنرل اسمبلی کے موقع پر اس کے رونالڈ نوبل کا کہنا ہے ترکی، شام آنے والے انتہاء پسندوں کے لیے اہم راستہ ہے لیکن انہوں اس امر پر بات کرنے سے انکار کیا کہ اس کاروبار میں کتنے لوگ ملوث ہیں۔ تاہم انٹرپول کے سربراہ نے کہا کہ متعلقہ ممالک کو نقل و حمل کے تمام مراکز کی کڑی نگرانی کرنا چاہیے۔ نگرانی کا دائرہ ائیر پورٹس کے ساتھ ساتھ بحری سفر تک بھی پھیلنا چاہیے۔ اس حوالے سے ترک حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے مشکوک غیر ملکیوں کو چیک کرنے کے لیے ٹیمیں تشکیل دے رکھی ہیں جو ائیر پورٹس، بس اڈوں وغیرہ پر تعینات ہیں اور حالیہ مہینوں کے دوران ان ترک ٹیموں نے سینکڑوں مشکوک افراد کو'' ڈی پورٹ '' کیا ہے۔
انٹر پول میں دہشت گردی کے انسداد کے شعبے کے ڈائریکٹر پیرے سینٹ ہلیری کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ترکی کی طرف سے کی گئی کارروائیوں نے حالیہ مہینوں میں نتائج دہے ہیں۔ اس لیے اب جہادیوں نے متبادل ذرائع استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ہلیری کے مطابق انتہا پسند جانتے ہیں کہ ائیر پورٹس کی نگرانی کی جا رہی ہے، اس لیے وہ کروز بحری جہازوں کے ذریعے ان علاقوں کا سفر کرنے لگے ہیں۔ انٹر پول کے حکام کے مطابق یہ صورت حال بالکل نئی ہے اور تقریبا تین ماہ سے سامنے آئی ہے۔ ہلیری نے کہا کہ ہمارے پاس اس امر کے شواہد ہیں کہ بعض لوگ خصوصا مغربی دنیا میں بحری جہازوں کی طرف مائل ہوئے ہیں،اس لیے اب ترکی کے ساحلی شہربھی اہم ہو گئے ہیں۔انٹر پول حکام کے مطابق بحری جہازوں کے راستے انتہائی خطرناک اور جرائم پیشہ لوگوں کی آمد و رفت ہمارے لیے تشویش کا باعث ہے۔ دوسری جانب جہاز رانی کی صنعت کے سب سے بڑے ادارے کروز لائینز انٹرنیشنل کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر ایلینورے بوئکے ان باتوں کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کروز لائنز اپنے مسافروں کا ڈیٹا امریکی حکام کے ساتھ باقاعدگی سے شیئر کرتی ہے۔
واضح رہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان وہ شخصیت ہیں کہ جنہوں نے شام کی عوامی حکومت کو گرانے کیلئے اپنے ملک کی سرزمین ان جہادیوں کے لئے ٹریننگ کیمپ کیلئے دی۔ لیکن وہ شاید یہ بھول گئے کہ یہی غلطی پاکستان نے 80ء کی دہائی میں کی تھی اور آج پاکستان اپنی اس غلطی کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔ ہر گزرنے والے مہینے میں نہ جانے کتنے ہی معصوم اور بے گناہ عوام دہشت گردی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ وقت شاید نزدیک آرہا ہے کہ ترکی بھی ایسے ہی انجام سے دوچار ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲